Posts

Showing posts with the label poetry of hurt

مرد؟

Image
خبر : کلاس کا اول رہنے والے بچے نے پنکھے سے لٹک کر اپنی جان لے لی . خبر : ملک کی معروف جامعہ کا طلب علم ، نشے کی اوور ڈوز سق جان کی بازی ہار گیا . خبر : سنگدل باپ نے 2 بچوں اور بیوی کو گولی مارنے کا بعد خود کشی کر لی . خبر ، خبر ، خبر . ری ایکشن : بزدل تھا ، سنگدل تھا ، لڑکی کا پیچھے جان لے لی ، نشے سے مر گیا ، پاگل تھا ، بیوقوف تھا ، مرد ہی نہیں تھا…  مرد ہی نہیں تھا . کیا ہے مرد ؟ کون ہے یہ ؟ کیوں ہے یہ ؟ میں کہتا ہوں کہ مرد اِس دنیا کا سب سے مظلوم جانور ہے . کیسے ؟ میں بتاتا ہوں ، مرد سے اس کی زندگی ، اس کی خوشیاں اس کا اپنا آپ، ایسے چھینا گیا کہ اس کو احساس تک نہیں ہوا . ذرا سی برتری کا لولی پوپ پکڑا کر ، اس کے کندھوں پہ اتنی ذمہداریان ڈال دی گئی کہ جِسم تو اکڑا رہ گیا ، مگر وہ اندر سے کھوکھلا ہوتا چلا گیا . اسی سے پِھر ہوتا ہے ، تھوڑی تیز ہوا کسی اور طرف سے آ جائے ، تو تڑخ ، بیچ سا ٹوٹ جاتا ہے. جھکتا نہیں ، بولتا نہیں ، کیوں کہ مرد کو تو درد نہیں ہوتا نا صاحب ، مرد تو کبھی رو نہیں سکتا . یا وہ مخلوق ہے ، جس پر ہمیشہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کے یہ سب فیصلے کرتا ہے . کہاں صاحب ، ک...

Raigani by Sohaib Mugheera Siddiqui

میں کمرے میں پچھلے اکتیس دنوں سے فقط اس حقیقت کا نقصان گننے کی کوشش میں الجھاہوا ہوں کہ تو جا چکی ہے تجھے رائیگانی کا رتی برابر اندازہ نہیں ہے تجھے یاد ہے وہ زمانہ جو کیمپس کی پگڈنڈیوں پہ ٹہلتے ہوئے کٹ گیا تھا؟ تجھے یاد ہے جب قدم چل رہے تھے ؟ کہ اک پیر تیرا تھا اور ایک میرا قدم وہ جو دھرتی پہ آواز دیتے کہ جیسے ہو راگا کوئی مطربوں کا قدم جیسے سا پا، گا ما پا گا سا رے وہ طبلے کی ترکٹھ پہ تک دھن دھنک دھن تنک دھن دھنادھن بہم چل رہے تھے قدم جو مسلسل اگر چل رہے تھے تو کتنے گویوں کے گھر چل رہے تھے مگر جس گھڑی تو نے اس راہ کو میرے تنہا قدم کے حوالے کیا کتنی فنکاریاں، کتنی باریکیاں کتنے '' کلیاں، بلاول '' گویوں کے ہونٹوں پہ آنے سے پہلے فنا ہوگئے کتنے نصرت فتح، کتنے مہدی حسن منتظر رہ گئے کہ ہمارے قدم پھر سے اٹھنے لگیں تجھ کو معلوم ہے جس گھڑی میری آواز سن کے تو اک زاویے پہ پلٹ کر مڑی تھی وہاں سے ریلیٹیویٹی کا جنازہ اٹھا تھا کہ اس زاویے کی کشش میں ہی یونان کے فلسفی سب زمانوں کی ترتیب برباد کر کے تجھے دیکھنے آگئے تھے کہ تیرے جھکاؤ کی تمثیل پہ اپنی ترچھی لکیروں کو خم دے سکیں اپن...

رقیب سے

Image
آ کہ وابستہ ہیں اُس حُسن کی یادیں تجھ سے جِس نے اِس دِل کو پری خانہ بنا رکھا تھا جِس کی اُلفت میں بھُلا رکّھی تھی دُنیا ہم نے دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا آشنا ہیں تیرے قدموں سے وہ راہیں جِن پر اُس کی مدہوش جوانی نے عنائت کی تھی کارواں گُذرے ہیں جِن سے اُسی رعنائی کے جِس کی اِن آںکھوں نے بے سوُد عِبادت کی ہے تُجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوُب ہوائیں جِن میں اُس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے تجھ پہ بھی برسا ہے اُس بام سے مہتاب کا نور جِس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے توُ نے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار وہ ہونٹ زندگی جِن کے تصوّر میں لٹا دی ہم نے تجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آ نکھیں تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ اُلفت کے اتنے احسان کے گنواوٰں تو گنوا نہ سکوں ہم نے اِ س عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے جزُ تیرے اور کو سمجھاوں تو سمجھا نہ سکوں عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے زیردستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا سرد آہوں کے، رُخِ زرد کےمعنی...